چوری کا مال/حقوق غصب کرنا

چوری کا مال استعمال نہیں کیا جا سکتا صرف ایک صورت ہے کہ مال کا مالک چور کو وہ مال ہبہ کردے تو وہ استعمال کر سکتا ہے۔

قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرما یا:

چورچاہے مرد ہو یا عورت، تو اس کے ہاتھ کا ٹو یہ اس کے کیے کا بدل،ہ اللہ کی طرف سے سزاء اور اللہ غالب حکمت والا ہے اور جو ظلم کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو اللہ اپنی مہربانی سے اس پر رجوع فرمائے گا بے شک بخشنے والا مہربان ہے۔  (المائدہ)

اسلام حلال رزق کمانے کا حکم دیتا ہے اور اہمیت بھی حلال کمائی کی ہی ہے۔ حرام مال،  چوری یا غصب شدہ مال حرام کمائی کے زمرے میں آتا ہے تو حرام کمائی سے کوئی صدقہ خیرات نہیں کی جا سکتی۔ اگر چوری کے مال کو خیراتی کاموں میں استعمال کرنا ہے تو اسکا ثواب حقیقی مالک کو پہنچے گا نہ کہ چور کو۔

 ورثاء کے لیے ضروری ہے کہ اس مال کو اس کے اصل مالک کو لوٹائے۔