ِہبہ

شرعی لحاظ سے کسی چیز کا دوسرے کو بلاعوض مالک کر دینا ہبہ کہلاتا ہے۔ اس میں عوض ہونا شرط نہیں ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، حضور  ﷺ فرماتے باہم ہدیہ کرو اس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔  (بخاری)

حضرت جابرؓ نے رواریت کی، کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا جس کوکو ئی چیز دی گئی اگر اس کے پاس کچھ ہے تو اسکا  بدلہ دے اور بدلہ دینے پر قادر نہ ہو تو اس کی ثناء کرے۔  (ترمذی)

جی ہاں جو چیز ہبہ کی جا رہی ہے ہبہ کرنے والا اس چیز کا مالک ہو۔ غلام ہبہ نہیں کر سکتا کیونکہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں۔ نابالغ پہ ہبہ نہیں ہے۔

چند ضروری باتیں ہیں جو موہوب لہ کے لیے ضروری ہیں ورنہ ہبہ کی ہوئی چیز اسکی ملکیت نہیں ہوگی، یعنی:

٭ ہبہ کے لیے قبول ضروری ہے۔ موہوب لہ جب تک قبول نہ کرے ہبہ نہیں ہوگا۔

٭قبضہ بھی ضروری ہے۔

جب موہوب لہ چیز کو قبول کر لیتا ہے اور واہب اس کو مکمل ملکیت و قبضے کا اختیار دے دیتا ہے تو وہ چیزموہوب لہ کے ترکے کا حصہ بنے گی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ چیز دے کر  واپس لینا بہت بُری بات ہے۔  مسلمان کو اس سے بچنا چاہیئے مگر چونکہ ہبہ ایسا عمل ہے کہ واہب پر لازم نہیں اگر واپس ہی لینا چاہتا ہے تو قاضی واپس کر دے گا  اسے نہ واپس لینے پہ مجبور نہیں کرے گااور یہ واپس لینے کا حکم بھی حدیث سے ثابت ہے مگر سب جگہ واپس نہیں کر سکتا  بعض میں واپس لے سکتا ہے اور بعض میں نہیں۔