نذر/منّت

نذر مطلب ہے ”تاوان“ کسی چیز کو واجب کرنا‘ اللہ کے لیے منت ماننا۔   نذر یہ ہے  کہ کوئی شخص کسی کام کے ہونے کی بناء پر اپنے اوپر ایسی عبادت کو واجب کر لے جو اس پر واجب نہیں۔

۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  اور جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اور تم جو بھی نذر مانتے ہو تو بے شک اللہ اس کو جانتا ہے

 (اے مریم!) تم کہنا میں نے رحمان کے لیے (خاموشی کے) روزہ کی نذر مانی ہے۔ سو میں آج ہر گز کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔

اور ان پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے لیے مانی ہوئی نذروں کو پورا کریں۔

نذر کی دو قسمیں ہیں ایک قسم حرام ہے اور یہ وہ نذرہے جو اللہ کی اطاعت میں نہ ہو۔ اور زمانہء جاہلیت میں زیادہ تر نذریں ایسی ہوتی تھیں اور دوسری قسم ہے ’مباح‘ یہ کبھی کسی کام کے ساتھ مشروط ہوتی ہے۔ اور کبھی مطلق ہوتی ہے۔ مثلاً : اگر میں فلاں مرض سے شفاء پا جاؤں تو میں ایک دینار صدقہ کروں گا۔  (یہ نذر مشروط ہے) یا میں اللہ کے لیے ایک غلام آزاد کروں گا (یہ غیر مشروط ہے)۔

مسائل فقہیہ کے مطابق نذر / منت کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم توڑنے میں ہوتا ہے۔ نذر کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہناناہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تینوں باتوں میں سے جو چاہے کرے۔

جس حاجت کی منت مانی ہے وہ حاجت پوری ہوتے ہی منت کا ادا کرنا ضروری ہے۔ دیر کرنے کی صورت میں گناہگار ہوگا۔ حاجت اگر سالوں تک پوری نہیں ہوتی تو منت کی دیری میں کوئی عیب نہیں۔

منت متبادل طریقوں سے ادا کی جا سکتی ہے اس کے کئی طریقے ہیں جیسے:

 ٭روٹی کھلانے کی منت مانی لیکن اس کے برابر پیسے دے دئیے تو منت پوری ہو گئی۔

٭  منت مانی دس مسکینوں کو کھاناکھلانے کی، ایک مسکین کو دس کے برابر کھانا دے دیا تو منت پوری ہوگئی۔

٭ ایک گائے یا اُونٹ کے ذبح کی منت مانی، بدلے میں سات بکریاں ذبح کردیں تو  منت پوری ہوگئی۔

٭ منت مانی میں اپنی اولاد کو ذبح کروں گا، تو ایک بکری ذبح کردی منت پوری ہو گئی۔