مال غنیمت

غنیمت اُسے کہتے ہیں جو لڑائی میں کافروں سے بطورقہرو غلبہ لیا جائے اور لڑائی کے بعد جو لیا جائے اُسے خراج اور جذیہ کہتے ہیں قرآن و حدیث میں کچھ یوں ارشاد ہوا ہے،

ترجمہ:۔  اے محبوب!  لوگ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ؐ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح صفائی رکھو اور اللہ اوررسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو۔

ترجمہ:۔  اور جان لو جو کچھ غنیمت لو تو اسکا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول اور قربت داروں، یتیموں محتاجوں اور مسافروں کا ہے۔

حدیث:۔ حضو ر  ﷺ نے فرمایا: ہم سے پہلے غنیمت کسی کے لیے حلال نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے لیے حلال کر دیا۔

حدیث:۔ ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے:  ہم حبشہ سے واپس ہوئے اس وقت رسول ﷺ نے ابھی  خیبر فتح کیا تھا آپؐ نے ہمارے لیے حصہ مقرر فرمایا اور ہمیں بھی عطاء کیا اور جو خیبر میں موجود نہ تھے ان میں ہمارے سوا کسی کو بھی حصہ نہ دیا۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

ترجمہ:۔   اور جان لو جو کچھ غنیمت لو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول ﷺ اور قربت داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا ہے۔

مال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے جاتے ہیں مجاہدین میں جو پیدل ہوگا اس کا ایک گنا حصہ ہے اور جو سوار ہے اس کا دو گنا (اس کا بھی اور اس کی سواری کا بھی) اور مال غنیمت کی تقسیم دارالحرب میں بغیر اجازت تقسیم نہیں ہے، دارالسلام میں پہنچ کر مال کی تقسیم ہے۔  شکاری کُتے، باز، شکرے وغیرہ مال غنیمت میں ملیں توان کو بھی تقسیم کیا جائے گا اور تقسیم سے قبل ان کا شکار مکروہ ہے۔ دارالحرب میں مال غنیمت میں سے بلااجازت کچھ بیچنا منع ہے اگر بیچا تو قیمت واپس لی جائے گی۔ پانچ میں سے چار حصے مجاہدوں کے ، ایک حصہ یتیموں، مسکینوں، غریبوں کے لیے۔

عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اگر ضرورت میسر آئے تو مال واپس بھی لے سکتی ہے تبادلہ بھی کر سکتی ہے۔

 جی ہاں مال غنیمت حاصل کرنے والا اس مال کا حقیقی مالک تصوّر کیا جائے گا، اور اس کے مرنے کے  بعد یہ مال اسکے ورثاء کا ہوگا۔