قربانی

اس کی دو صورتیں

پہلی صورت:۔ جانور خریدا ایام نحر گزر گئے قربانی نہ کر سکاتو اب قربانی فوت ہو گئی اب قربانی نہیں ہو سکتی۔ اب جو جانور معین کیا تھا اس کو صدقہ کر دے اگر ذبح کر دیا ہے تو رقم صدقہ کرنا ضروری ہے۔

دوسری صورت:۔ جانور نہیں خریدا تھا ایام نحر گزر گئے قربانی واجب تھی مگر  نہ کر سکا اب ضروری ہے اسکی رقم صدقہ کرے۔

اگر رقم صدقہ یا جانور صدقہ کر دیا ہے تو بہتر ورنہ گنہگار ہے۔

اسلام مسلمان کو حلال رزق کمانے کی تلقین فرماتا ہے اور حرام مال سے بچنے کا حکم دیتا ہے جب حرام مال کمانا ہی جائز نہیں تو اس حرام کمائی سے کوئی بھی خیراتی عمل چاہے وہ صدقہ ہو فطرانہ ہو قربانی ہو سب منع ہے۔

قربانی فرض نہیں ہے قربانی واجب ہے جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حا جت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جسکی قیمت دو سو درہم یا بیس دینار ہے تو وہ غنی ہے اس پر قربانی واجب ہے حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے ان کے سوا جو چیزیں ہوں وہ حاجت سے زائدہیں۔ ایسے شخص پر قربانی واجب ہے۔