صدقہ فطر

فطرانہ ایک طرح کا صدقہ ہے جو رمضان المبارک کے روزے مکمل ہونے پہ عید کی نماز سے پہلے دیا جاتا ہے یہ روزے ختم ہونے پر جو صدقہ غریبوں اور  محتاجوں کو دیا جاتا ہے اسے صدقہ فطر کہتے ہیں۔

احکام الٰہی کا تقاضا ہے کہ رمضان کا مہینہ عبادت و ریاضت میں گزارا جائے دن کو روزہ رکھا جائے اور رات کو قیام کیا جائے اپنے آپ کو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اور ہر غیر شرعی فعل سے محفوظ رکھا جائے، زبان،آنکھ، ہاتھ اور پاؤں تمام کو ہر ممکن گناہ سے محفوظ رکھا جائے لیکن احتیاط کے باوجود اگر کوئی کمی یا کوتاہی ہو جائے تو شریعت اسلامیہ نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے صدقہ فطر کا حکم دیا ہے صدقہ فطر ادا کرنے سے کمی و کوتاہی کی تلافی ہو جائے گی جیسا کہ حدیث پاک میں ہے

حدیث:۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺنے صدقہ فطر روزوں کو لغو اور بیہودہ سے پاکیزہ کرنے والا اور مساکین کے لیے کھانے کا باعث بنایا۔

ہر شخص کی طرف سے صدقہ فطر کی مقدار گندم یا آٹے کی صورت میں آدھا صاع ہے اور جو اور کھجور کی صورت میں ایک صاع ہے آدھا صاع موجودہ پیمانے کے مطابق سوا دو سیر یا سوا دو کلو بنتا ہے، ایک حدیث میں آیا ہے

حدیث:۔  حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ نے روضان کے احد میں فرمایا:  اپنے روزوں کا صدقہ نکالو یہ صدقہ رسول اکرم ﷺ نے ایک صاع کھجوریا جو یا آدھا صاع گندم ہر آزاد یا غلام مردوعورت چھوٹے بڑے پہ لازم قرار دیا۔ حضرت امام اعظم ؒ نے اس حدیث کے مطابق بیان کیا ہے کہ صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع گندم یا آٹا یا ستوہے دیگر اشیاء یعنی جو ء،کھجور، پنیر، اور خشک منقٰی کی مقدار ایک صاع ہے اگر گندم کے علاوہ کوئی دوسرا غلہ یعنی چاول، مکئی، باجرہ  یا چنا دینا ہو تو وہ گندم کی مقدار کے برا بر آئیگا صدقہ فطر میں غلہ بھی دیا جا سکتا ہے اور اسکی قیمت بھی بہتر ہے کہ قیمت دی جائے تاکہ لینے والے کو آسان ہو۔

صدقہ فطر محتاجوں، غریبوں، ناداروں کو تقسیم کرنا چاہیئے جن کے پاس اپنے اسباب نہ ہوں کہ وہ عید کی خوشی میں شامل ہو سکیں۔
جو ادارہ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور لاوارث بچوں کی کفالت کرتا ہو اور انھیں دینی و دنیاوی تعلیم سے مالا مال کرتا ہے ایسے ادارہ کو فطرانہ دینا چاہیئے۔
صدقہ فطر کا وقت آخری روزہ ختم ہونے کے بعد اور یکم شوال کی صبح صادق سے شروع ہو جاتا ہے، صدقہ فطر کو عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے، حدیث شریف کے مطابق صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنے کا حکم ہے۔