سُود

ربا یعنی سُود حرام قطعی ہے۔ اس کی حرمت کا منکرکافر ہے۔ عقد معاوضہ میں جب دونوں طرف مال ہو اور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس کے مقابل میں دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ سُود ہے۔ اور جس طرح سودلینا حرام ہے اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے۔ اُن دونوں پر لعنت فرمائی گئی ہے  اور فرمایا گیا کہ دونوں برابر ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سود حرام ہے اور گناہ ِکبیرہ ہے لہٰذااس سے بچو۔ قرآن پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔

اور یہ بھی اعلان فرمایا  کہ اللہ سُود کو ہلاک فرماتا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے۔

اس کے بعد وعیدِ شدید فرماتے ہوئے یہ خوفناک اعلان بھی فرمادیا کہ

اے ایمان والو!  اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود، اگر تم لوگ مسلمان ہو۔ پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا۔

مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اے ایمان والو! سودنہ دو اور نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کر رکھی ہے۔ اور اللہ و رسول ﷺکے فرمانبردار ہو اس امید پر کہ تم پر رحم کیا جائے۔

اِسی طرح احادیث میں بھی سود  پر مذمت کی گئی ہے۔

 حضرت عبداللہ بن مسعود سے روائت  ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:

سُود سے بظاہر) اگر چہ مال زیادہ ہو مگر نتیجہ یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔)

 حضرت  ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺنے فرمایا

شبِ معراج میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح(بڑے بڑے) ہیں ان پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔  میں نے پوچھا اے جبریل ؑ یہ کون لوگ ہیں؟

اُنہوں نے کہا یہ سود خور ہیں۔

ایک اور حدیث میں امیر المومنین  عمر بن الخطاب ؓ سے مروی ہے کہ فرمایا: سود کو چھوڑدو اور جس میں سود کا شبہ ہو اسے بھی چھوڑ دو۔

جنس کے اعتبار سے تو چیز ایک ہی ہے تب بھی روپے پر روپے ادا کرنے پڑتے تھے اب بھی جمع رقم پہ ماہا نہ/سالانہ روپیہ ہی ملتا ہے فرق اتنا ہے تب نام کے اعتبار سے صراحتاً سود بولا جاتا تھا اب مختلف نام دے دیئے گئے ہیں۔ مارک اپ، منافع وغیرہ یہ بھی سود ہی ہے۔

کرایہ داری سود کی شکل نہیں ہے کیونکہ کرایہ دار گھر کو استعمال کرتا ہے گھر کی درو دیوار سے فائدہ حاصل کرتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ عمارت کی قیمت میں کمی ہوتی ہے تو یہ صورت سود کے زمرہ میں نہیں آتی۔