زکوٰۃ

حدیث پاک کی رو سے زکوٰۃ مال کی میل کو کہا گیا ہے۔ یعنی جس طرح جسم کو صاف رکھنے کے لیے میل دور کرنا ضروری ہے اسی طرح مال کو صاف رکھنے کے لیے زکوٰۃ ادا کرنا بھی ضروری ہے۔

مصارف زکوٰۃ قرآن پاک کی روشنی میں آٹھ ہیں۔

  فقراء  (۲)  مساکین  (۳)  زکوٰۃ وصول کرنے والے  (۴)  جنکی تالیف قلب مطلوب ہو  (۵)  غلاموں کو آزاد کرنے کے لیے (۶)  مقروض  (۷)  خدا کی راہ میں  (۸)  مساف

جی ہاں،  ہر مذہبی و غیر مذہبی ادارہ جو انسان کی فلاح و بہبود کے لیے مصروف عمل ہو اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔

اسلام میں زکوٰۃ کے نصاب سے مراد یہ ہے کہ مسلمان کے پاس کتنا مال جمع ہے، سونایا چاندی کی کتنی مقدار ہے  یا پھراس کے پاس  جانوروں کی تعداد کتنی ہے۔  زکوٰۃ کا نصاب عام طور پر ساڑھے 52 تولہ چاندی کی اوسط قیمت کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے، جو 45 ہزار روپے کے لگ  بھگ ہے۔  (واضح رہے یہ نصاب چاندی کی قیمت میں تبدیلی سے ہر سال بدلتا رہتا ہے)۔  مزید  رہنمائی کے لئے زکوٰۃ کا حساب نکالنے کا  طریقہ جو اسی ویب سائٹ پر دیا گیا ہے۔

کسی بھی مال پر زکوٰۃ کی رقم معلوم کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ کوئی بھی مال  رقم، سونا، چاندی ہو اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں دینا ضروری ہے۔   ا 80ہزار پر 2 ہزار روپے کی  زکوٰۃ ادا کی جائے گی ،  ایک لاکھ پر  ڈھائی ہزار اور اگر 10 لاکھ ہو تو اس پر 25 ہزار روپے کی زکوٰۃ واجب الادا ہو گی ۔

زکوٰۃ کی ادایئگی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ ایک ہی مرتبہ ادا کردی جائے۔ مگر کوئی سال میں تھوڑی تھوڑی کر کے ادا کرتا ہے تو وہ بھی ٹھیک ہے۔