رہن/عام زبان میں گروی

لغت میں رہن کے معنی روکنا ہیں۔ اس کا سبب کچھ بھی ہو اوراصطلاحِ شرح میں دوسرے کے مال کو اپنے حق میں اس لیے روکنا کہ اس کے ذریعے سے اپنے حق کا کلاً یا جزا  ً وصول کرنا ممکن ہو مثلاً، کسی کے ذمہ اس کا دین ہے اس مدیون نے اپنی کوئی چیز دائن کے پاس اس لیے رکھوادی ہے کہ وہ اپنے دین کی وصولی پانے کے لیے ذریعہ بنے۔رہن کو اردو زبان میں گروی رکھنا بولتے ہیں۔ کبھی اس چیز کو بھی رہن کہتے ہیں جو گروی رکھی گئی ہے اور اس کا دوسرا نام مرہون ہے۔ چیز کے رکھوانے والے کو راہن اور جس کے پاس رکھی گئی اس کو مرتین کہتے ہیں۔ عقد رہن بالاجماع جائز ہے۔ قرآن مجید اور حدیث شریف سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ رہن میں خوبی یہ ہے کہ دائن و مدیون دونوں کا اس میں بھلایوں ہے کہ بعض مرتبہ بغیر رہن رکھے کوئی دیتا نہیں مدیون بھلا یوں ہوا کہ دین مل گیا اور دائن بھلا ظاہر ہے کہ اس کو اطمینان ہوتا ہے کہ اب میرا روپیہ مارا نہ جائے گا۔

حضرت عائشہؓ سے مروی ہے، فرماتی  ہیں کہ رسول ﷺ نے ایک یہودی سے غلہ ادھار خریدا تھا اور لوہے کی زرہ اس کے پاس رہن رکھی تھی۔  (صحیح بخاری و مسلم)

جی ہاں رہن سے حاصل شُدہ رقم جائز تصوّر کی جائے گی۔ کیونکہ رقم وصول کرنے والا وصول ہی اسی لیے کرتا ہے کہ اس نے اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنی ہوتی ہے۔ وہ  اپنے مشکل وقت میں اس رقم کو استعمال کر لیتا ہے۔