جُواء اور شرط

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے

ترجمہ:۔اے ایمان والو شراب اور جواء شیطان کی کارستانیاں ہیں، سو ان سے بچو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔

کسی کھیل پہ پیسہ لگا لینا یا کسی کام پہ شرط لگا لینا، اور جیت جانا تو ایسی صورت میں حاصل ہو نے والی رقم جوئے میں شمار ہوگی اور اسلام کی رو سے یہ رقم حرام ہے حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ شطرنج بھی ایک قسم کا جواء ہے،  مفسرین نے بچوں کا اخروٹ، منکوں اور مہروں کے ساتھ کھیلنا بھی جواءقرار دیا ہے۔

مال حرام کی کوئی بھی ایسی صورت نہیں ہے کہ کوئی شخص اسکو اپنے گھر یلو استعمال کے لیے حلال کرے جوئے کا مال ہی حرام ہے اسکو گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

جواء کی رقم کی واپسی ایسے ممکن ہے کہ اس شخص کو تلاش کرے جس سے رقم حاصل کی تھی اگروہ مل جائے تو اسے رقم لوٹا دے اور توبہ استغفار کر لے اور اگر نہیں ملتا تو ساری رقم صدقہ کر دے اور توبہ کرلے اور یہی حکم ورثا کے لیے بھی ہے۔