تجارت/کاروبار کرنے کی حوصلہ افزا ئی

اسلام چونکہ مکمل دین ہے اور انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں اس کا حکم نافذہے۔ جہاں عبادات کے طریقے بتاتا ہے معاملات کے متعلق بھی پوری روشنی ڈالتا ہے۔تاکہ زندگی کا کوئی شعبہ تشنہ باقی نہ رہے۔ اور مسلمان کسی عمل میں اسلام کے سِوا دوسرے کا محتاج نہ ہو۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف شعبوں اور متعدد قسموں پر منقسم فرمایا کہ ہر ایک جماعت ایک ایک کام انجام دے اور سب کے مجموعہ سے ضروریات پوری ہوں۔ مثلا  کوئی کھیتی باڑی کرتا ہے، کوئی کپڑا بنتا ہے، کوئی دستکاری کرتا ہے۔ جس طرح کھیتی باڑی کرنے والوں کو کپڑے کی ضرورت ہے۔ کپڑا بْننے والوں کو غلہ کی حاجت ہے۔ نہ یہ اس سے مستثنٰیٰ نہ وہ اس سے بے نیاز بلکہ ہر ایک کو دوسرے کی طرف احتیاج۔ حلال روزی کی تحصیل اس پر موقوف ہے کے جائز و ناجائز کو  پہچانے اور جائز ٖطریقے پر عمل کرے ناجائز سے دور بھاگے۔

قرآنِ مجید میں ناجائز طور پرمال حاصل کرنے کی سخت ممانعت آئی ہے۔ اللہ فرماتاہے:

اور آپس میں ایک دوسرے کا مال نا حق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لیئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طورپر کھالو۔

اے ایمان والو حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیئے حلال کیں۔ اور حد سے نہ بڑھو  بے شک حد سے بڑھنے والے اللہ کو نا پسند ہیں اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال  پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ا یمان ہے۔

حدیث پاک کے مطابق،  ا بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول  پاکؐ نے فرمایا:

تاجر راست گو، امانت دار، انبیاء صدیقین اور شہٰدا کے ساتھ ہوگا۔

ایک اور حدیث رسول کﷺ کے مطابق :

تجار قیامت کے دن فجار (بدکار)  اٹھائے جائنیگے مگر جو تاجر متقی ہو اور لوگوں کے ساتھ احسان کرے اور سچ بولے۔

تجارت بہت عمدہ اور نفیس کام ہے مگر اکژ تجار کذب بیانی سے کام لیتے ہیں۔ بلکہ جھوٹی قسمیں کھا لیا  کرتے ہیں۔ اگر تاجر اپنے مال میں برکت دیکھنا چاہتا ہے تو اِ  ن بری باتوں سے گریز کرے۔

کسب حلال کی کمائی کی بہت اہمیت اور برکات ہیں۔

احادیث مبارکہ میں بیان ہوا ہے کہ:۔

حضور پاکؐ نے فرمایا: اس کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں جس کو کسی نے اپنے ہاتھوں سے کام کر کے حاصل کیا ہے اور بیشک اللہ کے نبی حضرت داؤد ؑ اپنی دستکاری سے کھاتے تھے۔

حضرت ابو ہریرہؓ ؓؓ  سے مروی ہے، حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔ اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو دوست رکھتا ہے۔ اور اللہ نے مومنین کو بھی اس کا حکم دیا  جس کا رسولوں کو حکم دیا۔ اس نے رسولوں سے فرمایا: اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو۔

اور مومنین سے فرمایا:اے ایمان والو کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے  حضور اقدسﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی پرواہ بھی نہ کرے گا کہ اس نے چیز کو کہاں سے حاصل کیا ہے حلال ہے یا حرام۔

چار ایسے ذریعہ معاش ہیں جن کو اگر امانت داری سچائی اور کسبِ حلال طریقے سے کیا جائے تو اس میں بہت برکات پیدا ہوتی ہیں۔ جن میں کھیتی باڑی، تجارت، مزدوری اور تعلیم واقع ہے۔  ہر نبی نے بھی تجارت کی ہے اور ان میں سے کئی انبیاء کرام نے ان پیشوں کو اپنایا۔ جیسے کہ:

حضرت سلیمانؑ  ٹوپیاں بناکر بیچا کرتے تھے۔

حضرت داؤد ؑ     زِرہ بناتے تھے۔

حضرت ادریس ؑ   کپڑا بنتے تھے۔

حضرت نوحؑ  بڑ ھئی تھے۔

حضرت موسیٰ  ؑ  بکریاں چراتے تھے۔

حضرت  محمدﷺ  تجارت کرتے تھے۔

حضرت ابراہیمؑ   کھیتی باڑی کرتے تھے۔