امانت اور خیانت

امانت رکھنا جائز ہے او رجسکی امانت رکھی جائے اسکو واپس لوٹانا بہت ضروری ہے امانت میں خیانت حرام و گناہ ہے

ارشاد باری تعالیٰ ہے:  بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں ان کے سپرد کرو۔

معلوم ہوا کہ امانت کو صاحب امانت تک بغیر کسی خیانت کے پہنچانا واجب ہے۔

سب سے بڑی ذمہ داری اسکے مال کی حفاظت ہے اس میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی نہ ہواسکو استعمال کرنے سے گریز کرے اگر امانت میں کمی کرتا ہے یا اس کو استعمال کرکے نقصان پہنچاتا ہے تو یہ امانت میں خیانت ہے اور ایسا عمل حرام و گناہ کبیرہ ہے۔

(القرآن)   ”اے یمان والو اللہ اور رسول ﷺ کے ساتھ خیانت نہ کرو اور اپنی امانتوں میں بھی جان بوجھ کر خیانت نہ کرو“۔  (الانفال)

جتنی امانت دی ہے یا رکھوائی ہے اتنی کا ہی طلبگار ہو۔
حضرت سحرہ سے مروی رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے تمہارے پاس امانت رکھی اسکی امانت واپس کرو اور جس نے تمہارے ساتھ خیانت کی اسکے ساتھ خیانت مت کرو ۔ امانت میں خیانت کرنے والے کے لیے جو وعید ہے وہ قیامت کے دن پکڑ اور دوزخ کا عذاب ہے۔ روایت مین آتا ہے کہ حضرت عبداللہ ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں قیامت کے دن امانت میں خیانت کرنے والا اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جائیگا اور حکم ہوگا، فلاں کی امانت واپس کر و تو وہ کہے گا کہ میں امانت کیسے واپس کروں، اسی وقت دوزخ کی گہرائی میں امانت پڑی نظر آئے گی وہ دوزخ میں چھلانگ لگائے گا امانت کو اُٹھائے گا وہ گر جائے گی وہ پھر اُٹھائے گا پھر گر جائے گی اس طرح دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہو جائے گا۔
امانتاً رکھوائے گئے مال کو مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا قطعاً منع ہے اگر مالک سے اجازت لے اور وہ اجازت دے کہ جب مجھے ضرورت ہو تو اسی وقت واپس کردوگے، تب اس صورت میں اسکا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک سال انتظار کرے، سال کے بعد نہ ملنے کی صورت میں مالک کیطرف سے کسی بھی خیراتی کام میں لگادے۔